Sitting on 21st December 2021

Print

List of Business

 

صوبائی اسمبلی پنجاب

منگل 21دسمبر2021کو 1:00بجے دن منعقد ہونے والے اسمبلی کے اجلاس کی فہرست کارروائی

تلاوت  اور نعت

سوالات

محکمہ آبپاشی  سے متعلق سوالات

دریافت کئے جائیں گے اور ان کے جوابات دیئے جائیں گے۔

زیرو آور نوٹسز

علیحدہ فہرست میں مندرج زیرو آور نوٹسزلئے جائیں گے اور ان کے جوابات دیئے جائیں گے۔

غیرسرکاری ارکان کی کارروائی

حصہ اول

 

                                                                                                                                                                                                                                               

(مسودات   قانون)

 

1.       THE NATIONAL COLLEGE OF BUSINESS ADMINISTRATION & ECONOMICS, LAHORE (AMENDMENT) BILL 2021 (BILL NO. 76 OF 2021).

 

 

MR EHSAN-UL-HAQUE:

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

MR EHSAN-UL-HAQUE:

to move that the National College of Business Administration & Economics, Lahore (Amendment) Bill 2021, as recommended by Standing Committee on Higher Education, be taken into consideration at once.

 

to move that the National College of Business Administration & Economics, Lahore (Amendment) Bill 2021, be passed.

.........

 

 

2.       THE PUNJAB PUBLIC REPRESENTATIVES’ LAWS (AMENDMENT) BILL 2021.

 

 

AGHA ALI HAIDER:

MS SHAHIDA AHMAD:

MR MUNEEB-UL-HAQ:

MS UZMA KARDAR:

 

AGHA ALI HAIDER:

MS SHAHIDA AHMAD:

MR MUNEEB-UL-HAQ:

MS UZMA KARDAR:

to move that leave be granted to introduce the Punjab Public Representatives’ Laws (Amendment) Bill 2021.

 

 

 

to introduce the Punjab Public Representatives’ Laws (Amendment) Bill 2021.

.........

 

3.       THE UNIVERSITY OF CENTRAL PUNJAB (AMENDMENT) BILL 2021.

 

 

MR SAJID AHMED KHAN:

MS NEELUM HAYAT MALIK:

 

MR SAJID AHMED KHAN:

MS NEELUM HAYAT MALIK:

to move that leave be granted to introduce the University of Central Punjab  (Amendment) Bill 2021.

 

to introduce the University of Central Punjab (Amendment) Bill 2021.

.........

 

 

 

4.       THE UNIVERSITY OF RAWALPINDI BILL 2021.

 

 

MS KHADIJA UMER:

MR MUHAMMAD LATASOB SATTI:

MS NEELUM HAYAT MALIK:

MS UZMA KARDAR:

MR SAJID AHMED KHAN:

 

MS KHADIJA UMER:

MR MUHAMMAD LATASOB SATTI:

MS NEELUM HAYAT MALIK:

MS UZMA KARDAR:

MR SAJID AHMED KHAN:

to move that leave be granted to introduce the University of Rawalpindi Bill 2021.

 

 

 

 

 

 

 

to introduce the University of Rawalpindi Bill 2021.

.........

 

5.       THE UNIVERSITY OF ARTS & SCIENCES BILL 2021.

 

 

MS UZMA KARDAR:

MS KHADIJA UMER:

MR MUHAMMAD ABDULLAH WARRAICH:

 

MS UZMA KARDAR:

MS KHADIJA UMER:

MR MUHAMMAD ABDULLAH WARRAICH:

to move that leave be granted to introduce the University of Arts & Sciences Bill 2021.

 

 

 

to introduce the University of Arts & Sciences Bill 2021.

.........

 

6.       THE NUR INTERNATIONAL UNIVERSITY LAHORE (AMENDMENT) BILL 2021.

 

 

MS MOMINA WAHEED:

MR SAJID AHMED KHAN:

MS UZMA KARDAR:

MS KHADIJA UMER:

 

MS MOMINA WAHEED:

MR SAJID AHMED KHAN:

MS UZMA KARDAR:

MS KHADIJA UMER:

 

to move that leave be granted to introduce the NUR International University Lahore (Amendment) Bill 2021.

 

 

 

to introduce the NUR International University Lahore (Amendment) Bill 2021.

.........

7.       THE SALAR INTERNATIONAL UNIVERSITY BILL 2021.

 

 

MS MOMINA WAHEED:

MS KHADIJA UMER:

MS UZMA KARDAR:

 

MS MOMINA WAHEED:

MS KHADIJA UMER:

MS UZMA KARDAR:

to move that leave be granted to introduce the Salar International University Bill 2021.

 

 

 

to introduce the Salar International University Bill 2021.

.........

حصہ دوم

 

 

                                                                                                                                                                                                                                               

(مفاد عامہ سے متعلق قراردادیں)

(مورخہ 23 نومبر 2021 کے ایجنڈے سے زیر التواء قرارداد)

 

1.      

شیخ علاؤ الدین :

(6 مئی 2021 کو پیش ہو چکی ہے)

یہ معزز ایوان وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ (Resident) اور (Non-Resident) پاکستانیوں کے لئے شرح منافع جو (Non-Resident) کے لئے 7% غیرملکی کرنسی پر اور ملکی کرنسی پر 11% تک دیا جا رہا ہے۔ جبکہ (Resident) پاکستانیوں کو غیرملکی کرنسی پر مشکل سے 1% اور پاکستانی کرنسی پر 3% سے 4% دیا جا رہا ہے اور (Resident) پاکستانیوں سے اس منافع پر بھی 35% تک ٹیکس لیا جا رہا ہے جبکہ (Non-Resident) سے منافع کی حد کے قطع نظر صرف 10% لیا جا رہا ہے۔ اس ظلم اور زیادتی کو فوری طور پر ختم کیا جانا ضروری ہے اور یکساں شرح منافع کا ملنا انتہائی ضروری ہے۔

.........

 

 

2.      

سید عثمان محمود:

سید حسن مرتضیٰ:

خواجہ سلمان رفیق:

(30ستمبر2021کوپیش ہو چکی ہے)

پنجاب بھر کے میڈیکل کالجوں میں 3350 طالب علموں کے داخلہ کی گنجائش ہے جن کے against انٹری ٹیسٹ میں تقریباً ایک لاکھ امیدوار appear ہوتے ہیں اور 93 فیصد نمبروں پر میرٹ close ہو جاتا ہے۔ ایم بی بی ایس پانچ سالوں میں مکمل ہوتا ہے اور ہر سال کے end پر PROFF کا امتحان ہوتا ہے یہ مرحلہ مکمل ہونے کے بعد ایک سال کے لئے ہاؤس جاب کرنی ہوتی ہے تب جا کر سرکاری ملازمت کے حصول کے لئے PPSC میں appear ہونے کا اہل ہو سکتا ہے اور یہ قانون 1962 سے رائج ہے اور یہ سارا process، PMDC  کے زیر انتظام ہے۔ اب PMDC ختم کر کے PMC بنایا گیا ہے، PMC نے اپنے ایکٹ کے سیکشن 20 میں ثبت کیا ہوا ہے کہ ایم بی بی ایس مکمل کرنے کے بعد NLE پاس کرے گا وہ ہاؤس جاب کا مستحق ٹھہرے گا ورنہ اس کی زندگی بھر کی محنت رائیگاں جائے گی۔ امریکہ اور برطانیہ میں SMLE اور PLAB کے exams  ہوتے ہیں لیکن وہ پاس ہونے والے ڈاکٹرز کو لائسنس جاری کرنے کے ساتھ ساتھ Residency  دینے کے بھی پابند ہیں لیکن NLE پاس کرنے کے بعد ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ پھر دُنیا بھر کا قانون ہے کہ جو بھی فیصلے کئے جاتے ہیں وہ with immediate effect  ہوتے ہیں وہ گزرے ہوئے سالہاسال سے لاگو نہیں ہوتے لہذا جن بچوں کی رجسٹریشن PMDC کے تحت ہوئی ہوئی ہے اور انہوں نے باقاعدہ تمام قواعد و ضوابط پر مشتمل surety bond  لکھ کر دیئے ہوئے ہیں اب ان بچوں سے NLE لینا خلاف آئین و قانون ہے۔ اسی وجہ سے پنجاب بھر کے میڈیکل کالجوں سے فارغ التحصیل طلباء سراپا احتجاج ہیں اور اپنے مطالبے کے حق میں روزانہ سڑکوں پر ہیں۔ لہذا پنجاب کا یہ منتخب ایوان وفاقی حکومت سے اس امر کا مطالبہ کرتا ہے کہ PMC کے ایکٹ میں موجود شق نمبر 20 کو فی الفور ختم کیا جائے تاکہ ڈاکٹروں کا مستقبل محفوظ ہو اور وہ احتجاج کا راستہ چھوڑ کر ہسپتالوں میں غریب اور لاچار مریضوں کی جانیں بچانے کے لئے اپنے فرائض ادا کریں۔

.........

 

3.      

رانا مشہود احمد خان:

(30ستمبر2021کوپیش ہو چکی ہے)

چین میں تعلیم حاصل کرنے والے ہزاروں پاکستانی طلبہ دسمبر 2019 سے لے کر آج تک مسائل کا شکار ہیں۔ انہیں واپس چین جا کر اپنی تعلیم جاری رکھنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ حکومت چین انہیں واپسی کے لئے ویزے جاری نہیں کر رہی، ہزاروں کی تعداد میں یہ طلبہ اپنے مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی حالات کا شکار ہیں۔ دُنیا کے تمام ممالک اپنے ان طلبہ جو چین میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں ان کے لئے مثبت کردار ادا کرتے ہوئے انہیں اپنی تعلیم جاری رکھنے کے لئے واپس چین بھجوانے میں مددگار ثابت ہوئے ہیں جن میں امریکہ اور جنوبی کوریا سرفہرست ہیں۔ ہمارے طلبہ مکمل vaccination  کروا چکے ہیں اور حکومت چین کی جانب سے مقرر کردہ تمام SOPs پر عملدرآمد کرنے کو تیار ہیں۔ PhD اور شعبہ طب کے حوالے سے تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کو تحقیقی اور تجرباتی تعلیم کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے جو کہ online   کلاسز سے مکمل طور پر ختم نہیں ہوتا۔ ان کے تعلیمی معاملات سے متعلقہ ان مسائل کو حل کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ حکومت وقت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ چین  سے رابطہ کر کے جلدازجلد اس مسئلہ کا حل نکالنے کی کوشش کرے اور ان ہزاروں طلبہ کی تعلیم اور مستقبل کے حوالے سے مبہم صورتحال کو واضح کرے تاکہ یہ طلبہ اپنی تعلیم چین سے مکمل کر کے واپس پاکستان آ کر اپنے ملک اور قوم کی خدمت کر سکیں۔ یہ ہماری اخلاقی اور قومی ذمہ داری ہے کہ اپنی نوجوان نسل کے مستقبل کو تباہ ہونے سے بچایا جائے۔ لہذا یہ ایوان وفاقی حکومت سے پُرزور مطالبہ کرتا ہے کہ چین سے رابطہ کر کے ان متاثرین طلبہ کے ویزے جاری کئے جائیں تاکہ وہ طلبہ اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں۔

.........

 

4.      

محترمہ عنیزہ فاطمہ:

(ابھی پیش ہونی ہے)

پنجاب کا یہ ایوان کھادوں خاص طور پر ڈی اے پی کی قیمتوں میں ظالمانہ اضافے کی شدید مذمت کرتا ہے۔ ڈی اے پی کھاد کی بوری اس وقت مارکیٹ سے 8 ہزار روپے کی دستیاب ہے اور گندم کی کاشت کے لئے یہ سب سے زیادہ استعمال ہوتی ہے۔ یہ کسان پر بہت بڑا ظلم ہے دیگر اشیاء خوردونوش کی قیمتوں میں اضافے کی طرح کھادوں کی قیمتوں میں اضافے سے کاشتکار کو گندم اور دیگر اجناس کی کاشت میں بڑی مشکلات کا سامنا ہے۔ ڈی اے پی کھاد کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے سے گندم کی فصل کم کاشت ہوگی جس سے مستقبل میں گندم اور آٹے کا بحران پیدا ہونے کے خدشات بڑھ جائیں گے۔ پہلے ہی پچھلے دو سال سے صوبے کو آٹے کے بحران کا شدید سامنا ہے۔ پنجاب کا یہ ایوان وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کرتا ہے کہ مستقبل میں گندم کی کمی، آٹے کے بحران سے بچنے اور زرمبادلہ بچانے کے لئے کھادوں خاص طور پر ڈی اے پی کھاد کی قیمتوں میں کمی کی جائے یا کسان کو زیادہ سے زیادہ اس مد میں سبسڈی دی جائے۔

.........

 

 

5.      

چودھری افتخار حسین چھچھر :

(ابھی پیش ہونی ہے)

ایک تولہ سونا میں 12 ماشہ ہوتے ہیں، جب کوئی شخص سونے کے زیورات خرید کرتا ہے تو 12 ماشہ کی پوری قیمت ادا کرتا ہے اور جب ضرورت پڑنے پر اسی سنار کو زیور فروخت کرتا ہے تو وہ ایک تولہ میں سے 3 ماشہ کٹوتی کرتا ہے۔ پاکستان میں سونے کے زیورات کی خرید و فروخت کے حوالے سے کوئی قانون نہیں ہے۔ لہذا صوبائی اسمبلی پنجاب کے اس ایوان کی رائے ہے کہ سونے کے زیورات کی خرید و فروخت کے حوالے سے قانون سازی کی جائے تاکہ عوام سنار کی لوٹ مار سے محفوظ رہ سکیں۔

.........

 

(موجودہ قراردادیں)

 

1.      

چودھری افتخار حسین چھچھر :

اس ایوان کی رائے ہے کہ صحافی کالونی کی طرز پر صوبائی اسمبلی پنجاب کے ملازمین کی رہائشی کالونی بنانے کیلئے بھی اقدامات کئے جائیں۔

.........

2.      

جناب محمد مرزا جاوید:

اس ایوان کی رائے ہے کہ صوبہ بھر میں جعلی اور ملاوٹ شدہ دودھ کا کاروبار زور و شور سے جاری ہے، مصنوعی دودھ بیچنے والے انسانی جانوں سے کھیل رہے ہیں۔ لہذا جعلی دودھ کی فروخت میں شامل انسانیت دشمن عناصر کے خلاف فی الفور سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔

.........

3.      

محترمہ خدیجہ عمر :

صوبہ بھر کے بہت سے پرائیوٹ اداروں اور فیکٹریوں میں لیبر کے لئے نماز کے اوقات میں وقفہ نماز نہیں کیا جاتا اور بہت سے ایسے نجی ادارے اور فیکٹریاں ہیں جہاں نماز ادا کرنے کے لئے نہ تو مساجد اور نہ ہی کوئی مخصوص جگہ ہے جہاں ملازمین نماز کا فریضہ ادا کر سکیں جس کی وجہ سے ملازمین سمیت صوبہ بھر کی عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ لہذا پنجاب اسمبلی کا یہ ایوان حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ حکومت فی الفور صوبہ بھر کے تمام نجی اداروں اور فیکٹری مالکان کو پابند کرے کہ نماز کے وقت نجی اداروں اور فیکٹریوں میں نماز کا وقفہ کیا جائے اور جن نجی اداروں اور فیکٹریوں میں نماز ادا کرنے کی جگہ نہ ہے وہاں فی الفور نماز ادا کرنے کی جگہ مخصوص کی جائے۔

.........

4.      

شیخ علاؤالدین :

ایک حالیہ فیصلے کے مطابق (LDA) نے زرعی زمینوں کی (Conversion Fees) کی شرح نصف کر دی ہے۔ لہذا یہ معزز ایوان حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ زرعی زمینوں کی رہائشی اور تجارتی مقاصد کے لئے تباہی کو فوری روکا جائے۔ لاہور جیسے شہر کے اردگرد اوکاڑہ تک اور اُدھر وزیرآباد تک زرعی زمینیں نایاب ہوتی جا رہی ہیں۔ پلاٹ مافیا لاکھوں کی کروڑوں اور کروڑوں کی زمینیں اربوں میں بیچ رہا ہے۔ مزید ظلم یہ کہ رہائشی علاقوں میں انہی شرائط پر کمرشل تعمیرات کی اجازت دی جا رہی ہے۔ لاہور کے انتہائی اہم رہائشی علاقے بھی اس کمرشل مافیا کی زد میں آ چکے ہیں۔ بےہنگم تعمیرات اور آبادی کے بےپناہ بہاؤ کے ساتھ ساتھ ان مافیا کو آہنی ہاتھوں سے فوری نمٹنا ضروری ہے ورنہ آنے والی نسلیں معاف نہ کریگی۔

.........

 

5.      

محترمہ رابعہ نسیم فاروقی :

پنجاب اسمبلی کا یہ ایوان قہقہے بکھیرنے والے عمر شریف کی وفات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتا ہے۔ پنجاب کا یہ ایوان لوگوں کے چہروں پر ہنسی بکھیرنے والے عمر شریف کو اُن کی خدمات پر خراج تحسین پیش کرتا ہے اور اُن کی مغفرت کے لئے دُعاگو ہے۔

.........

 

 

 

 

 

 

 

 

لاہور

محمد خان بھٹی

مورخہ:20 دسمبر 2021

سیکرٹری

 

   
   

Summary of Proceedings

Not Available

Resolutions Passed

قرارداد نمبر:  110

محرک کا نام:   محترمہ خدیجہ عمر (W-362)

 

"پنجاب اسمبلی کا یہ ایوان اس بات کی تائید کرتا ہے کہ تبلیغی جماعت دُنیا میں اسلام کی دعوت و تبلیغ کا فریضہ سرانجام دینے والی منظم اور عالمی جماعت ہے۔ تبلیغ کا جو کام ہو رہا ہے وہ قرآن و سنت کے مطابق ہے۔ تبلیغی جماعت کا دہشت گردی سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں، تاریخ گواہ ہے کہ یہ لوگ آج تک کبھی کسی ایسے کام میں ملوث نہیں رہے۔ یہ تو اسلام اور امن کے سفیر ہیں اور پاکستان کیلئے قابل فخر اثاثہ ہیں جو پوری دُنیا میں تبلیغ اسلام سے پاکستان کا نام روشن کر رہے ہیں۔ یہ ایسی جماعت ہے جس میں تمام طبقے کے لوگ شامل ہیں، تبلیغی جماعت نے غریب اور امیر کی تفریق ختم کر کے بھائی چارے کا عملی ثبوت دیا ہے۔ مزید براں دیگر جماعتیں جو تبلیغ اسلام کے لئے کام کر رہی ہیں ہم اُن کے کردار کو بھی سراہتے ہیں۔ ان کی کاوشوں سے پاکستان کا اسلام دوستی اور دہشت گردی کے خاتمہ کا داعی ہونے کا تشخص بلند ہو رہا ہے۔"

-----------------------

قرارداد نمبر:  111

محرک کا نام:   چودھری افتخار حسین  چھچھر (PP-185)

 

"ایک تولہ سونا میں 12 ماشہ ہوتے ہیں، جب کوئی شخص سونے کے زیورات خرید کرتا ہے تو 12 ماشہ کی پوری قیمت ادا کرتا ہے اور جب ضرورت پڑنے پر اسی سنار کو زیور فروخت کرتا ہے تو وہ ایک تولہ میں سے 3 ماشہ کٹوتی کرتا ہے۔ پاکستان میں سونے کے زیورات کی خرید و فروخت کے حوالے سے کوئی قانون نہیں ہے۔ لہذا صوبائی اسمبلی پنجاب کے اس ایوان کی رائے ہے کہ سونے کے زیورات کی خرید و فروخت کے حوالے سے قانون سازی کی جائے تاکہ عوام سنار کی لوٹ مار سے محفوظ رہ سکیں۔"

------------------

قرارداد نمبر:  112

محرک کا نام:   چودھری افتخار حسین  چھچھر (PP-185)

 

"اس ایوان کی رائے ہے کہ صحافی کالونی کی طرز پر صوبائی اسمبلی پنجاب کے ملازمین کی رہائشی کالونی بنانے کیلئے بھی اقدامات کئے جائیں۔"

-----------------