Sitting on 28th September 2021

Print

List of Business

صوبائی اسمبلی پنجاب

منگل 28ستمبر2021کو 2:00بجے دوپہر منعقد ہونے والے اسمبلی کے اجلاس کی فہرست کارروائی

تلاوت  اور نعت

سوالات

محکمہ  محنت و انسانی وسائل  سے متعلق سوالات

دریافت کئے جائیں گے اور ان کے جوابات دیئے جائیں گے۔

 

زیرو آور نوٹسز

علیحدہ فہرست میں مندرج زیرو آور نوٹسزلئے جائیں گے اور ان کے جوابات دیئے جائیں گے۔

غیرسرکاری ارکان کی کارروائی

 

 

حصہ اول

 

                                                                                                                                                                                                                                               

(مسودات   قانون)

 

1.       THE UNIVERSITY OF SOUTH ASIA, LAHORE  (AMENDMENT) BILL 2021.

 

 

MR SAJID AHMED KHAN :

MR MUHAMMAD ABDULLAH WARRAICH :

 

 

MR SAJID AHMED KHAN :

MR MUHAMMAD ABDULLAH WARRAICH :

to move that leave be granted to introduce the University of South Asia, Lahore (Amendment) Bill 2021.

 

to introduce the University of South Asia, Lahore (Amendment) Bill 2021.

.........

2.       THE INSTITUTE OF MANAGEMENT AND APPLIED SCIENCES KHANEWAL BILL 2021 (BILL No. 50 of 2021)

 

 

MR SAJID AHMED KHAN:

MIAN SHAFI MUHAMMAD:

MS KHADIJA UMAR:

 

MR SAJID AHMED KHAN :

MIAN SHAFI MUHAMMAD:

MS KHADIJA UMAR:

to move that the Institute of Management and Applied Sciences Khanewal Bill 2021, as recommended by Special Committee No 9, be taken into consideration at once.

 

to move that the Institute of Management and Applied Sciences Khanewal Bill 2021, be passed.

.........

3.       THE ASPIRE UNIVERSITY LAHORE BILL 2021 (BILL No. 51 of 2021)

 

 

MR SAJID AHMED KHAN:

MIAN SHAFI MUHAMMAD:

MS KHADIJA UMAR:

 

MR SAJID AHMED KHAN :

MIAN SHAFI MUHAMMAD:

MS KHADIJA UMAR:

to move that the Aspire University Lahore Bill 2021, as recommended by Special Committee No 9, be taken into consideration at once.

 

 

to move that the Aspire University Lahore Bill 2021, be passed.

.........

(نوٹ): مندرجہ بالا مسودات قانون کی کاپیاں مورخہ 3 اور 12 اگست 2021 کو فراہم کی جا چکی ہیں۔

 

 

 

 

 

حصہ دوم

 

 

 

 

(مفاد عامہ سے متعلق قراردادیں)

(مورخہ 13 اگست 2021 کے ایجنڈے سے زیر التواء قراردادیں)

 

1.      

شیخ علاؤ الدین :

(پیش ہو چکی ہے)

یہ معزز ایوان وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ (Resident) اور (Non-Resident) پاکستانیوں کے لئے شرح منافع جو (Non-Resident) کے لئے 7% غیرملکی کرنسی پر اور ملکی کرنسی پر 11% تک دیا جا رہا ہے۔ جبکہ (Resident) پاکستانیوں کو غیرملکی کرنسی پر مشکل سے 1% اور پاکستانی کرنسی پر 3% سے 4% دیا جا رہا ہے اور (Resident) پاکستانیوں سے اس منافع پر بھی 35% تک ٹیکس لیا جا رہا ہے جبکہ (Non-Resident) سے منافع کی حد کے قطع نظر صرف 10% لیا جا رہا ہے۔ اس ظلم اور زیادتی کو فوری طور پر ختم کیا جانا ضروری ہے اور یکساں شرح منافع کا ملنا انتہائی ضروری ہے۔

 

 

2.      

سید حسن مرتضیٰ:

ملک بھر کے رہائشیوں کے لئے اناج، سبزی، فروٹ حتیٰ کہ کھانے پینے کی ہر چیز کسان پیدا کرتا ہے اور پاکستان میں موجود ہر صنعت کو خام مال بھی کسان ہی مہیا کرتا ہے لیکن پاکستان کے معرض وجود میں آنے سے لے کر آج تک کسان نظر انداز ہوتا چلا آ رہا ہے۔ موجودہ حکومت نے اعلان کیا ہوا ہے کہ پنجاب کے ہر کسان کو کسان کارڈ ملے گا۔  ہونا تو یہ چاہئے کہ پنجاب بھر میں کھاد کے جتنے سٹورز ہیں کسان کسی بھی کھاد کے سٹور پر جا کر کسان کارڈ دکھائے اور اپنی ضرورت کے مطابق فلیٹ ریٹ پر کھاد حاصل کرے تب کسان سبسڈی سے مستفید ہو سکتا ہے۔ لہذا پنجاب اسمبلی کا یہ منتخب ایوان حکومت سے اس بات کا مطالبہ کرتا ہے کہ کسان کو تمام کھادیں فلیٹ ریٹ پر مہیا کی جائیں۔

 

 

3.      

چودھری افتخار حسین چھچھر:

صوبہ پنجاب میں محکمہ تعلیم میں متعدد کیسز ایسے دیکھنے کو ملے ہیں جہاں میل اور فی میل اساتذہ کو اکٹھے کام کرنے کی وجہ سے مسائل پیدا ہو رہے ہیں اور اس سے بہت سے ناخواشگوار واقعات بھی وقوع پذیر ہوئے ہیں۔ لہذا یہ ایوان مطالبہ کرتا ہے کہ جہاں جہاں میل اور فی میل اساتذہ اکٹھے کام کر رہے ہیں انہیں ان کی جنس کے مطابق سکولوں میں ٹرانسفر کر دیا جائے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے بچا جا سکے۔

 

 

4.      

جناب صہیب احمد ملک:

تحصیل بھلوال جس کی آبادی 357331 ہے جو ضلع سرگودھا کی سب سے بڑی تحصیل ہے جس سے دو تحصیلیں تحصیل بھیرہ جس کی آبادی 315148 اور تحصیل کوٹ مومن جس کی آبادی 453562 ہے۔ تحصیل بھیرہ کی مشرقی سرحد ضلع منڈی بہاؤالدین سے اور تحصیل کوٹ مومن کی سرحد حافظ آباد اور تحصیل پھالیہ سے ملتی ہے اس طرح دونوں تحصیلوں کا فاصلہ سرگودھا شہر سے تقریباً 100 کلومیٹر سے زیادہ بنتا ہے جس سے عوام کو سرگودھا شہر جانے کے لئے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لہذا صوبائی اسمبلی پنجاب کا یہ معزز ایوان حکومت سے پُرزور سفارش کرتا ہے کہ تحصیل بھلوال، تحصیل بھیرہ اور تحصیل کوٹ مومن کو شامل کر کے تحصیل بھلوال کو ضلع کا درجہ دیا جائے۔

 

 

5.      

جناب محمد ارشد ملک:

معزز لاہور ہائی کورٹ لاہور نے رٹ پٹیشن نمبر WP.No. 7122/2017 محمد شفیق الرحمان بنام وفاق پاکستان کی شنوائی کرتے ہوئے اپنے حتمی فیصلے میں وفاقی حکومت اور پاکستان بیورو آف شماریات (Pakistan Bureau of Statistics)  کو حکم دیا تھا کہ مردم شماری کے عمل کے دوران Special Persons  کی حقیقی تعداد کو صنفی بنیادوں پر شمار کرنے کیلئے فارم 2 میں افراد کی اقسام کے گنتی کے کوڈز کی تعداد بڑھائی جائے۔ لہذا یہ صوبائی اسمبلی، صوبائی حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ وفاقی حکومت سے اس امر کی سفارش کرے کہ چھٹی مردم شماری کے عبوری نتائج کی روشنی میں ملکی آبادی میں Special Persons اور خواجہ سرا کے صوبہ وار اعداد و شمار فوری جاری کئے جائیں تاکہ متعلقہ صوبائی حکومتیں ان اعداد و شمار کی روشنی میں آئندہ بجٹ میں ان افراد کی فلاح و بہبود کیلئے حقیقی بجٹ مختص اور موثر اقدامات کرنے کے قابل ہوں۔

 

 

6.      

محترمہ خدیجہ عمر:

اس معزز ایوان کے مشاہدہ میں ہے کہ خواتین خصوصاً بچوں اور بچیوں سے جنسی زیادتی کے واقعات میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ جو پنجاب اور پاکستان کے عوام کے لئے شدید باعث تشویش ہے اور عوام خوف و ہراس میں مبتلا ہیں۔ ہر روز تمام اخبارات میں ایسے اندوہناک واقعات رپورٹ ہو رہے ہیں اور یہ کہنے میں کوئی دو رائے نہیں کہ غیر معمولی حالات پیدا ہو چکے جن سے نمٹنے کے لئے غیرمعمولی اقدامات کی ضرورت ہے۔ لہذا یہ ایوان مطالبہ کرتا ہے کہ ہر سطح پر جنسی زیادتی کے ناسور کے خاتمہ کے لئے پوری قوت سے فوری اور دائمی اقدامات کئے جائیں۔

 

         

 

 

(موجودہ قراردادیں)

 

1.      

محترمہ خدیجہ عمر:

یہ ایوان بڑی شدت اور سنجیدگی سے محسوس کرتاہے کہ پاکستان میں Transgender  افراد کی 99فیصد تعداد نہایت کسمپرسی اور دُکھ بھری زندگی گزار رہی ہے۔ ان کی اکثریت بھیک مانگنے پر مجبور ہے۔ اس کے برعکس مہذب معاشروں میں Transgender  سے عام افراد کی طرح سلوک کیا جاتا ہے جہاں وہ ہر شعبہ زندگی میں بغیر کسی احساس کمتری (Inferiority Complex) کے اپنے فرائض منصبی ادا کرتے ہیں اور عام لوگوں کا رویہ بھی ان سے برابری کا ہوتا ہے لیکن یہ ایک ستم ہے کہ ہمارے ملک میں ہر جگہ وہ تضحیک اور عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ ان وجوہات کی بناء پر یہ  ایوان مطالبہ کرتا ہے کہ حکومت پاکستان صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر Transgender  افراد کی تعلیم و تربیت بشمول فنی تعلیم کے لئے ایک جامع منصوبہ بنائے، ان کے والدین کو ان کی ابتدائی تعلیم دلوانے کے حوالے سے پابند کرے اور ان کو زندگی کے ہر شعبے میں اپنا کردار ادا کرنے کے قابل بنایا جائے تاکہ وہ معاشرے میں باعزت زندگی گزار سکیں۔ حکومت اپنی ذمہ داری پوری کرے، ان کو حالات کے رحم و کرم پر نہ چھوڑے اور ان کی زندگی آسان بنانے کے لئے حکومتی اور پرائیویٹ اداروں میں ان کی ملازمتوں کو یقینی بنائے۔۔

 

 

2.      

محترمہ عظمیٰ کاردار:

معاشرے سے انتہا پسندی کے خاتمے اور امن و ہم آہنگی کے فروغ کے لئے خواتین کا کردار انتہائی اہم ہے کیونکہ ایک خاتون پورے معاشرے کو پروان چڑھاتی ہے۔ اسی سلسلے میں سٹینڈنگ کمیٹی برائے جنڈرمین سٹریمنگ نے ایک خواتین امن کونسل تشکیل دی ہے جس کی پیٹرن ان چیف مسز گورنر پنجاب اور کنوینیئر چیئرپرسن سٹینڈنگ کمیٹی برائے جینڈر مین سٹریمنگ کو بنایا گیا، اس کونسل میں مختلف شعبہ ہائے زندگی کی خواتین شامل ہیں، جس میں پنجاب کی مختلف یونیورسٹیز کی خواتین وائس چانسلرز، تمام سیاسی جماعتوں کی خواتین ایم پی ایز، سوشل ورکرز، ٹرانسجینڈرز، خصوصی خواتین اور اقلیتی نمائندگی شامل ہے۔ یہ ایوان مطالبہ کرتا ہے کہ اس خواتین امن کونسل کو قانونی حیثیت دی جائے اور معاشرے میں امن و امان کے فروغ اور ہم آہنگی کے لئے خواتین کے کردار کو بڑھانے کے لئے اقدامات کئے جائیں۔

 

 

3.      

محترمہ شعوانہ بشیر:

صوبے میں خواتین پر ہونے والے تشدد، ریپ، قتل اور جنسی ہراسگی کے بڑھتے ہوئے واقعات میں خوفناک حدتک اضافہ ہو رہا ہے۔ اسکے ساتھ ساتھ معصوم بچوں پر ہونے والے جنسی تشدد اور قتل کے واقعات معاشرے میں خوف و ہراس کا باعث بن رہے ہیں۔ اس لئے اس ایوان کی رائے ہے کہ ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے ان مقدمات کا جلدازجلد فیصلہ کیا جائے اور ان ملزمان کو سخت سے سخت سزا دی جائے تاکہ معاشرے میں امن اور انصاف کی فضا قائم ہوسکے۔

 

 

 

 

4.      

جناب محمد عبداللہ وڑائچ:

اس ایوان کی رائے ہے کہ پنجاب حکومت مسافر گاڑیوں میں زائد المعیاد گیس سلنڈر کے استعمال پر فوری پابندی لگائے اور اس پر سختی سے عمل کرایا جائے۔

 

 

5.      

محترمہ عنیزہ فاطمہ:

صوبائی دارالحکومت لاہور میں رواں سال ہونے والے زیادتی کے مقدمات کی تعداد میں اضافہ ہو گیا ہے۔ رواں سال میں ابتک 369 مقدمات کا اندراج کیا گیا ہے۔ لاہور میں رواں سال ہونے والے زیادتی کے مقدمات کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ انویسٹی گیشن پولیس میں رواں سال کے اب بھی 113 کیسز زیرتفتیش ہیں۔ انویسٹی گیشن پولیس نے 42 متاثرہ خواتین کے میڈیکل بھی نہ کروائے۔ ناقص تفتیش کی وجہ سے 91 کیسز میں ڈی این اے ہی تاخیر سے کروایا گیا۔ سب سے زیادہ زیادتی کے کیسز صدر ڈویژن میں رپورٹ ہوئے جن کی تعداد 97 رہی۔ کینٹ ڈویژن جنسی زیادتی کے کیسز میں دوسرے نمبر پر رہا جن کی تعداد 80 ہے۔ ماڈل ٹاؤن ڈویژن میں رواں سال 73 جبکہ سٹی ڈویژن میں 56 مقدمات رپورٹ ہوئے۔ لہذا اس ایوان کی وساطت سے مطالبہ ہے کہ فوری طور پر پولیس ریفارمز خاص طور پر پولیس کے تفتیشی نظام میں اصلاحات لائی جائیں اور مذکورہ مقدمات میں ملوث افراد کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کی جائے۔

 

.........

 

 

لاہور

محمد خان بھٹی

مورخہ:27 ستمبر 2021

سیکرٹری

 

Summary of Proceedings

Not Available

Resolutions Passed

 

قرارداد نمبر: 101

 

 محرک کا نام:  جناب عمار یاسر (پی پی۔24) وزیر معدنیات

 

 

 

"پنجاب اسمبلی کا یہ ایوان اس سعادت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہے کہ پنجاب اسمبلی کی نئی عمارت کو ختم نبوتﷺ کے متعلق قرآن پاک کی سورة الاحزاب کی آیت نمبر 40 اور حدیث مبارکہ بحوالہ رواہ ابوداؤد 4252 و ترمذی 2219 ترجمے کے ساتھ سنہری حروف میں مزین کیا گیا ہے۔ اللہ کے آخری نبی حضرت محمدﷺ نے فرمایا: "تحقیق عنقریب میری اُمت میں 30 جھوٹے دجال کھڑے ہوں گے اُن میں سے ہر ایک دعویٰ کرے گا کہ وہ نبی ہے حالانکہ میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی ہونے والا نہیں" یہ ایوان حکومت پنجاب سے اس امر کا مطالبہ کرتا ہے کہ ختم نبوتﷺ سے متعلق یہی قرآن پاک کی مکمل آیت اور مکمل حدیث مبارک ترجمے کے ساتھ پنجاب کے تمام سرکاری دفاتر اور ضلعی داخلی حدود میں سنہری حروف میں نمایاں مقام پر آویزاں کی جائیں۔"

 

 

 

قرارداد نمبر: 102

 

محرک کا نام:  جناب ساجد احمد خان (پی پی۔67)

 

 

 

"پنجاب اسمبلی کا یہ ایوان کشمیری راہنما کل جماعتی کانفرنس کے چیئرمین سید علی شاہ گیلانی کی بھارتی حراست میں وفات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتا ہے۔ عظیم کشمیری راہنما سید علی شاہ گیلانی جو کہ باہمت، نڈر اور مخلص راہنما تھے انہوں نے ہمیشہ کشمیریوں کے حقوق کی آواز بلند کی اور کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کی تحریک کو موثر انداز میں دُنیا کے سامنے پیش کیا اور بھارتی افواج کے ظلم و جبر کے سامنے سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑے رہے اور کبھی بھی ان کا عزم اپنے بنیادی حقوق آزادی حاصل کرنے کی جدوجہد سے متزلزل نہ ہوا۔ یہ ایوان ان کو ان کی حق خودارادیت کے لئے لازوال جدوجہد پر خراج تحسین پیش کرتا ہے۔ یہ ایوان معترف ہے کہ سید علی شاہ گیلانی نے مقبوضہ کشمیر میں "ہم پاکستانی ہیں اور پاکستان ہمارا ہے" کا نعرہ لگا کر اپنی آنے والی نسلوں کے لئے ایک منزل کا تعین کر دیا ہے۔ پنجاب اسمبلی کا یہ ایوان سید علی شاہ گیلانی کی میت چھیننے اور طاقت کے زور پر بھارتی فورسز کی عظیم کشمیری راہنما کی رات کے اندھیرے میں جبری تدفین کرنے، ان کا بنیادی حق سلب کرنے، ان کی وصیت، ورثاء اور کشمیریوں کی خواہش کے مطابق شہداء کے قبرستان میں تدفین نہ کرنے اور ان کی نماز جنازہ میں کشمیریوں کو شرکت کی اجازت نہ دینے پر سخت مذمت کرتا ہے۔  یہ ایوان اقوام متحدہ اور عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اس انسانیت سوز واقعہ کا نوٹس لیں اور کشمیریوں پر ہونے والے مظالم رکوانے کے لئے بھارتی حکومت پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں اور بزرگ کشمیری راہنما سید علی شاہ گیلانی کے ورثاء کی خواہش کے مطابق ان کی میت کو مناسب اسلامی رسومات کے ساتھ شہداء کے قبرستان میں دفن کیا جائے۔"

 

 

 

قرارداد نمبر: 103

 

 محرک کا نام:  محترمہ خدیجہ عمر (W-362)

 

 

 

"یہ ایوان بڑی شدت اور سنجیدگی سے محسوس کرتاہے کہ پاکستان میں Transgender  افراد کی 99فیصد تعداد نہایت کسمپرسی اور دُکھ بھری زندگی گزار رہی ہے۔ ان کی اکثریت بھیک مانگنے پر مجبور ہے۔ اس کے برعکس مہذب معاشروں میں Transgender  سے عام افراد کی طرح سلوک کیا جاتا ہے جہاں وہ ہر شعبہ زندگی میں بغیر کسی احساس کمتری (Inferiority Complex) کے اپنے فرائض منصبی سرانجام دیتے ہیں اور عام لوگوں کا رویہ بھی ان سے برابری کا ہوتا ہے لیکن یہ ایک ستم ہے کہ ہمارے ملک میں ہر جگہ وہ تضحیک اور عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ ان وجوہات کی بناء پر یہ  ایوان مطالبہ کرتا ہے کہ حکومت پاکستان صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر Transgender  افراد کی تعلیم و تربیت بشمول فنی تعلیم کے لئے ایک جامع منصوبہ بنائے، ان کے والدین کو ان کی ابتدائی تعلیم دلوانے کے حوالے سے پابند کرے اور ان کو زندگی کے ہر شعبے میں اپنا کردار ادا کرنے کے قابل بنایا جائے تاکہ وہ معاشرے میں باعزت زندگی گزار سکیں۔ حکومت اپنی ذمہ داری پوری کرے، ان کو حالات کے رحم و کرم پر نہ چھوڑے اور ان کی زندگی آسان بنانے کے لئے حکومتی اور پرائیویٹ اداروں میں ان کی ملازمتوں کو یقینی بنائے۔"