Sitting on 2nd February 2021

Print

List of Business

 

صوبائی اسمبلی پنجاب

 

 

 

منگل 2 فروری2021 کو 2:00بجے دن منعقد ہونے والے اسمبلی کے اجلاس کی فہرست کارروائی

 

 

 

تلاوت  اور نعت

 

......

 

 

 

سوالات

 

محکمہ  زراعت  سے متعلق سوالات

 

دریافت کئے جائیں گے اور ان کے جوابات دیئے جائیں گے۔

 

 

 

زیرو آور نوٹسز

 

علیحدہ فہرست میں مندرج زیرو آور نوٹسز

 

لئے جائیں گے اور ان کے جوابات دیئے جائیں گے۔

 

 

 

غیرسرکاری ارکان کی کارروائی

 

 

 

                                                                                                                                                                                                                                               

 

 

 

حصہ اول

 

 

 

 

 

(مسودہ      قانون)

 

 

 

                  THE UNIVERSITY OF FAISALABAD (AMENDMENT) BILL 2021.

 

 

 

 

 

MIAN SHAFI MUHAMMAD :

 

 

MIAN SHAFI MUHAMMAD :

to move that leave be granted to introduce the University of Faisalabad (Amendment) Bill 2021.

 

to introduce the University of Faisalabad (Amendment) Bill 2021.

 

.........

 

 

 

 

 

 

 

 

 

حصہ دوم

 

 

 

 

 

 

 

(مفاد عامہ سے متعلق قراردادیں)

 

 

 

(موجودہ قراردادیں)

 

 

 

.1

محترمہ سمیرا کومل :

محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن نے ساڑھے تین لاکھ افراد کو سمارٹ کارڈ فراہم نہیں کئے۔ صرف لاہور میں 88 ہزار سمارٹ کارڈز التواء کا شکار ہیں جس سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے یہ ایوان مطالبہ کرتا ہے کہ شہریوں کو سمارٹ کارڈ کی فوری فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔

 

.........

 

 

 

.2

محترمہ نسرین طارق :

اس ایوان کی رائے ہے کہ صوبہ پنجاب میں زرعی اراضی پر ہاؤسنگ سوسائٹیوں اور صنعتی یونٹس کی تعمیر پر فوری طور پر پابندی عائد کی جائے اور زرعی اراضی میں اضافہ کرنے کے اقدامات اٹھائے جائیں۔

 

.........

 

 

 

.3

محترمہ عظمیٰ کاردار :

یہ ایوان ریاست پاکستان اور افواج پاکستان کو خراج تحسین پیش کرتا ہے کہ ان کی بھرپور کاوش اور Dedication کی بدولت پاک فوج دُنیا کی 10 طاقتور ترین افواج میں شامل ہو گئی ہے۔ یہ اعزاز حال ہی میں Global Fireworks Index 2021 کی شائع کردہ لسٹ میں دیا گیا ہے۔ اس ایوان کی رائے ہے کہ پاک آرمی ایک سیسہ پلائی دیوار کی مانند ملک کی سرحدوں کی محافظ ہے اور اس نے ایک بار پھر قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔

 

.........

 

 

 

.4

محترمہ حناء پرویز بٹ:

لاہور کے 100 سکولوں میں واٹر فلٹریشن پلانٹس منصوبہ ابھی تک مکمل نہیں ہوسکا ہے۔ واٹر فلٹریشن پلانٹس یکم مارچ 2020 سے قبل نصب ہونا تھے۔ سکول سربراہوں کو 5 کروڑ روپے کی خطیر رقم منتقل ہونے کے باوجود پلانٹس نصب نہیں ہوسکے۔ جس کی وجہ سے ہزاروں طلباء مضر صحت پانی پینے پر مجبور ہیں۔ پنجاب اسمبلی کا یہ ایوان سرکاری سکولوں میں واٹر فلٹریشن پلانٹس نصب نہ ہونے پر گہری تشویش کا اظہار کرتا ہے اور مطالبہ کرتا ہے کہ لاہور کے سرکاری سکولوں میں فوری طور پر واٹر فلٹریشن پلانٹس نصب کئے جائیں۔

 

.........

 

 

 

 

 

 

 

لاہور

محمد خان بھٹی

مورخہ: 28 جنوری 2021

سیکرٹری

 

 

 

Summary of Proceedings

Not Available

Resolutions Passed

 

قرارداد نمبر: 85

محرک کا نام:  محترمہ عظمیٰ کاردار (ڈبلیو۔311)  چیئرپرسن سٹینڈنگ کمیٹی برائے Gender Mainstreaming

"یہ ایوان ریاست پاکستان اور افواج پاکستان کو خراج تحسین پیش کرتا ہے کہ ان کی بھرپور کاوش اور Dedication کی بدولت پاک فوج دُنیا کی 10 طاقتور ترین افواج میں شامل ہو گئی ہے۔ یہ اعزاز حال ہی میں Global Fireworks Index 2021 کی شائع کردہ لسٹ میں دیا گیا ہے۔ پاک آرمی ایک سیسہ پلائی دیوار کی مانند ملک کی سرحدوں کی محافظ ہے اور اس نے ایک بار پھر قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔"

قرارداد نمبر: 86

محرک کا نام:  جناب رمیش سنگھ آروڑہ (NM-370)

"بھارت ڈیڑھ ارب آبادی پر مشتمل ملک ہے جو دُنیا بھر میں اپنے آپ کو بہت بڑا جمہوری ملک ہونے کا دعویٰ کرتا ہے لیکن اس کے شر سے کوئی بھی پڑوسی ملک محفوظ نہیں ہے۔ اب تو دہشت گرد تنظیم آر ایس ایس اور اس کی حکومت مودی سرکار سے اس کے اپنے ملک کے شہری بھی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ مسلمانوں کے خلاف امتیازی قوانین بنائے جا رہے ہیں اور باقی اقلیتوں کی زندگی بھی اجیرن کی جا رہی ہے حتیٰ کہ ان کے شر سے دلت ہندو بھی محفوظ نہیں ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ بھارت اب صرف بڑی ذات کے ہندوؤں کا ملک بن کر رہ گیا ہے۔ مودی سرکار یہاں تک نہیں رکی بلکہ اب اس نے اصلاحات کے نام پر کسانوں کی زمینیں ہڑپ کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ بھارت میں 67 فیصد کسان ہیں اور ملک کی ایک بہت بڑی آبادی کا روزگار کاشتکاری سے وابستہ ہے۔ خاص طور بھارتی پنجاب ملک بھر کو خوراک واناج مہیا کر رہا ہے اور اسے فوڈ باسکٹ کہا جاتا ہے لیکن ان اصلاحات سے کسان نہ صرف اراضی سے محروم ہوں گے بلکہ زندہ درگور ہو جائیں گے۔ اس خطرے کے پیش نظر سکھ کسانوں نے اپنی زمینوں، روزگار اور اپنی آنے والی نسلوں کے مستقبل کے تحفظ کے لئے بھارت میں موجود تمام اتھارٹیوں کا دروازہ کھٹکھٹایا لیکن ان کی شنوائی نہیں ہوئی۔ آخر کار تنگ آ کر لاکھوں کی تعداد میں سکھ اور باقی قوموں سے تعلق رکھنے والے کسان اپنے ٹریکٹر ٹرالیوں کے ساتھ نومبر 2020 سے یخ بستہ سردی میں احتجاج کر رہے ہیں۔ اس احتجاج میں بزرگ، بچے اور خواتین بھی شامل ہیں لیکن تین ماہ گزرنے کے باوجود ابھی تک مودی سرکار نے ان کی بات نہیں سنی بلکہ بات سننے کی بجائے انہیں نعشیں دی جا رہی ہیں۔ کسانوں نے بھی تہیہ  کیا ہوا ہے کہ وہ اپنے حق کے حصول تک احتجاج جاری رکھیں گے چاہے انہیں جتنی بھی قربانیاں دینا پڑیں۔ پنجاب کا یہ منتخب ایوان بھارت کے مظلوم سکھ کسانوں پر مظالم کی شدید مذمت کرتا ہے اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اقوام عالم میں سکھوں کے اس اہم ترین مسئلے کو اجاگر کرنے میں ان کی اخلاقی مدد کرے۔"