کمیٹیوں کے قواعد پرنٹ کریں

 کمیٹیاں

  (اے) سٹینڈنگ کمیٹیاں

 148۔ سٹینڈنگ کمیٹیاں۔ [1]](1)  قواعد 176، 180، 182، 183 اور 185 کے تحت  تشکیل کردہ  سٹینڈنگ  کمیٹیوں  کے علاوہ  اسمبلی کی مدت   کے لئے  ذیل میں  ہر محکمہ  کے مقابل  مندرجہ ذیل  سٹینڈنگ  کمیٹیاں  عام انتخابات  کے بعد اسمبلی  کی جانب سے  تشکیل دی جائیں گی :۔

 

نمبرشمار

کمیٹی  کا نام

محکمہ

1.         

سٹینڈنگ کمیٹی برائے زراعت

زراعت

2.         

سٹینڈنگ کمیٹی برائے  اوقاف ومذہبی امور

اوقاف ومذہبی امور

3.         

سٹینڈنگ کمیٹی برائےوزیر اعلیٰ معائنہ ٹیم

وزیر اعلیٰ معائنہ ٹیم

4.         

سٹینڈنگ کمیٹی برائےکالونیز 

کالونیز

5.         

سٹینڈنگ کمیٹی برائےمواصلات وتعمیرات  

مواصلات وتعمیرات

6.    

سٹینڈنگ کمیٹی برائے امدادباہمی

امداد باہمی

7.         

سٹینڈنگ کمیٹی برائے تعلیم

ہائیر ایجوکیشن اینڈ سکول ایجوکیشن

8.         

سٹینڈنگ کمیٹی برائے تحفظ ماحولیات

تحفظ ماحولیات

9.         

سٹینڈنگ کمیٹی برائے آبکاری ومحصولات

آبکاری ومحصولات

10.      

سٹینڈنگ کمیٹی  برائے  خزانہ

خزانہ

11.      

سٹینڈنگ کمیٹی برائے خوراک

خوراک

12.      

سٹینڈنگ کمیٹی برائےجنگل بانی،جنگلی حیات و ماہی پروری

 جنگل بانی،جنگلی حیات و  ماہی پروری

13.      

سٹینڈنگ کمیٹی برائےصحت

صحت

14.      

سٹینڈنگ کمیٹی برائےامور داخلہ

داخلہ

15.      

سٹینڈنگ کمیٹی برائےہاؤسنگ ،شہری ترقی وپبلک ہیلتھ انجینئرنگ

ہاؤوسنگ ،شہری ترقی وپبلک ہیلتھ انجینئرنگ

16.      

سٹینڈنگ کمیٹی برائے انسانی حقوق

انسانی حقوق  و اقلیتی امور

17.      

سٹینڈنگ کمیٹی برائے صنعت ،تجارت و سرمایہ کاری

صنعت ،تجارت و سرمایہ کاری

18.      

سٹینڈنگ کمیٹی برائے اطلاعات و ثقافت

اطلاعات و ثقافت

19.      

سٹینڈنگ کمیٹی برائے آبپاشی وتوانائی

(i) آبپاشی

(ii) توانائی

20.      

سٹینڈنگ کمیٹی برائے محنت وانسانی وسائل

محنت وانسانی وسائل

21.      

سٹینڈنگ کمیٹی برائےقانون

(i) قانون وپارلیمانی امور

(ii) پبلک پراسیکیوشن

22.      

سٹینڈنگ کمیٹی برائےخواندگی و غیر رسمی بنیادی تعلیم

خواندگی و غیر رسمی بنیادی تعلیم

23.      

سٹینڈنگ کمیٹی برائے لائیو سٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ

لائیو سٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ

24.      

سٹینڈنگ کمیٹی برائے مقامی حکومت وکمیونٹی  ڈویلپمنٹ

مقامی حکومت و کمیونٹی  ڈویلپمنٹ

25.      

سٹینڈنگ کمیٹی برائے انتظامی و پیشہ ورانہ ترقی

انتظامی و پیشہ ورانہ ترقی

26.      

سٹینڈنگ کمیٹی برائے کان کنی و معدنیات

کان کنی و معدنیات

27.      

سٹینڈنگ کمیٹی برائے منصوبہ بندی و ترقیات

منصوبہ بندی و ترقیات

28.      

سٹینڈنگ کمیٹی برائے بہبود آبادی

بہبود آبادی

29.      

سٹینڈنگ کمیٹی برائےمال، ریلیف و اشتمال

(i) مال

(ii) اشتمال و ہولڈنگز

(iii) ریلیف اینڈ  کرائسس مینجمنٹ

30.      

سٹینڈنگ کمیٹی برائے امور ملازمت و انتظام عمومی

امور ملازمت و انتظام عمومی

31.      

سٹینڈنگ کمیٹی برائے سماجی بہبود و بیت المال

سماجی بہبود و بیت المال

32.      

سٹینڈنگ کمیٹی برائے خصوصی تعلیم

خصوصی تعلیم

33.      

سٹینڈنگ کمیٹی برائے ٹرانسپورٹ

ٹرانسپورٹ

34.      

سٹینڈنگ کمیٹی برائےجینڈرمین سٹریمنگ

ترقی  نسواں

35.      

سٹینڈنگ کمیٹی برائے امور نوجوانان، کھیل ، آثار قدیمہ  و سیاحت

امور نوجوانان، کھیل ، آثار قدیمہ  و سیاحت

36.      

سٹینڈنگ کمیٹی برائےزکوٰة

زکوٰة  و عشر[

 

 

 

 (2) ماسوائے اس صورت کے کہ قواعد ہذا میں بہ نہج دیگر مذکور ہو، کوئی کمیٹی صرف اس معاملے پر غور کرے گی جو اسمبلی نے اس کے سپرد کیا ہو۔

 

[2]](3)  سپیکر،قاعدہ  ہذا کو قواعدکار حکومت  پنجاب 2011 میں بیان کردہ  محکموں کے مطابق لانے کی غرض سے، وزیر قانون  وپارلیمانی امور  اوراپوزیشن لیڈر  کی  مشاورت   سےسرکاری گزٹ  میں بذریعہ اعلامیہ کسی کمیٹی اور کسی کمیٹی کو  تفویض کردہ   محکمے کا نام تبدیل کرسکتا ہے ۔[

149۔ سٹینڈنگ کمیٹیوں کی تشکیل۔ (1)  ہر سٹینڈنگ کمیٹی دس ارکان پر مشتمل ہو گی، جنہیں اسمبلی منتخب کرے گی۔

(2) متعلقہ وزیر اور پارلیمانی سیکرٹری اس کمیٹی کے بلحاظ عہدہ رکن ہوں گے۔

(3) مسودہ قانون کا رکن متعلقہ ، اورسٹینڈنگ کمیٹی کو اسمبلی کی جانب سے سپرد کردہ کسی دیگر معاملے کی صورت میں وہ رکن جس نے وہ موضوع یا معاملہ، مشورہ طلبی یا غور و خوض کے لئے کمیٹی کے سپرد کرنے کی تجویز پیش کی ہو، کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کر سکتا ہے لیکن اسے ووٹ دینے کا حق صرف اس صورت میں حاصل ہو گا جب کہ وہ اس کمیٹی کا منتخب رکن ہو۔

(4)  متعلقہ محکمے کا سیکرٹری اور محکمہ قانون و پارلیمانی امور کا سیکرٹری یا کوئی افسر جسے، ان میں سے ہر ایک نے، اس سلسلے میں مامور کیا ہو، کمیٹی کے اجلاسوں میں بطور ماہر مشیر شرکت کرے گا۔

150۔ انتخاب کا طریق کار۔ (1)  بجز اس کے کہ قواعد ہذا میں بہ نہج دیگر مذکور ہو، تمام کمیٹیوں کے اراکین کا انتخاب، جہاں تک ممکن ہو، قائد ایوان اور اپوزیشن لیڈر اور کسی قائد کی عدم موجودگی کی صورت میں اس کے نائب سے باہمی سمجھوتے سے کیا جائے گا۔

(2) ایسی صورت میں، جب کہ ذیلی قاعدہ (1)میں متذکرہ سمجھوتہ نہ ہو سکے تو ہر کمیٹی کے اراکین کا انتخاب اسمبلی کے ارکان میں سے متناسب نمائندگی کے اصولوں کے مطابق واحد قابل انتقال ووٹ کے ذریعے گوشوارہ پنجم میں بیان کردہ طریق کار کے مطابق عمل میں لایا جائے گا۔

 [3]](3)  اسمبلی عام انتخابات  کے بعد  ہونے والے قائد ایوان  کے  انتخاب کے بعد90دن کے اندر  کمیٹیاں  منتخب کرے گی ۔

 (4)  کمیٹیوں کے انتخاب  کے بعد اگرکسی   کمیٹی  کی رکنیت  میں کوئی تبدیلی ضروری  ہوجائے تو سپیکر  قائد ایوان  کی  ایما پر وزیر قانون  وپارلیمانی امور  اور اپوزیشن لیڈر کی مشاورت  سے کسی ایک  یا اس سے زائد  کمیٹیوں  کی رکنیت  تبدیل کرے گا ۔[

151۔ کمیٹی کا چیئرمین۔ (1)  کمیٹی اپنے اراکین میں سے اپنا ایک چیئرمین منتخب کرے گی۔

(2) اگر کسی اجلاس میں چیئرمین غیر حاضر ہو تو کمیٹی حاضر اراکین میں سے کسی ایک رکن کو اس اجلاس کے چیئرمین کے فرائض انجام دینے کے لئے منتخب کرے گی۔

[4]](3)  کمیٹی کےچیئرمین انتخاب کمیٹی کے انتخاب  کی تاریخ یا چیئرمین  کا عہدہ  خالی ہونے کی تاریخ سے 30تیس دن کے عرصہ کے اندرکیا جائے گا۔[

152۔ استعفیٰ۔ (1)  کوئی رکن سپیکر کے نام اپنی دستخط شدہ تحریر کے ذریعے کمیٹی کی رکنیت سے مستعفی ہو سکتا ہے۔

(2) چیئرمین کمیٹی، سپیکر کے نام اپنی دستخط شدہ تحریر کے ذریعے اپنے عہدے سے مستعفی ہو سکتا ہے۔

153۔ اتفاقی خالی اسامیاں۔ (1)  کسی کمیٹی میں اتفاقی طور پر خالی ہونے والی اسامیاں قاعدہ150 یا 151، جیسی بھی صورت ہو، میں بیان کردہ طریق کار کے مطابق بعجلت ممکنہ پُر کی جائیں گی۔

(2) ذیلی قاعدہ (1)کے تحت منتخب ہونے والا رکن اتنے عرصے کے لئے اس اسامی پر فائز رہے گا جتنے عرصے کے لئے وہ رکن اس اسامی پر فائز رہتا جس کی جگہ پر یہ رکن منتخب ہوا ہے۔

(3) کورم کے تقاضے سے مشروط، کمیٹی اپنی رکنیت میں کسی خالی اسامی کی موجودگی کے باوجود، کام کرنے کی مجاز ہو گی۔

154۔ کمیٹیوں کے فرائض۔ (1) ہر کمیٹی اس مسودہ قانون یا دیگر معاملے پر غور و خوض کرے گی، جو اسمبلی کی جانب سے اس کے سپرد کیا گیا ہو اور اپنی رپورٹ ایسی سفارشات کے ساتھ اسمبلی کو پیش کرے گی جن میں قانون سازی کے لئے ایسی تجاویز، اگر کوئی ہوں، بھی شامل ہوں گی، جنہیں وہ ضروری خیال کرے۔

(2) کسی مسودہ قانون کی صورت میں کمیٹی اس امر پر بھی غور کرے گی کہ  آیا مسودہ قانون آئین کے منافی یا متصادم تو نہیں یا کسی بھی صورت میں آئین سے عدم مطابقت تو نہیں رکھتا۔

(3) کمیٹی ایسی ترامیم تجویز کر سکتی ہے جو مسودہ قانون کی حدود کے اندر ہوں، لیکن کمیٹی کے پاس ایسا کوئی اختیار نہیں ہو گا کہ وہ مسودہ قانون کو اسمبلی کے غور و خوض سے روک سکے۔

(4) رپورٹ میں ترامیم، اصل مسودہ قانون کی اصلی دفعات کے ساتھ ساتھ دی جائیں گی۔

(5) کمیٹی کسی ایسے معاملے سے جو اسے سپرد کیا گیا ہو، پیدا شدہ کسی خاص کام کی انجام دہی کے لئے سپیکر کی منظوری سے ذیلی کمیٹی مقرر کرنے کی مجاز ہو گی۔

(6) اگر کوئی کمیٹی مقررہ میعاد یا توسیع شدہ میعاد، اگر کوئی ہو، کے اندر اندر اپنی رپورٹ پیش نہ کرے تو اسمبلی، رپورٹ کا انتظار کئے بغیر کسی رکن یا وزیر کی جانب سے تحریک پیش کئے جانے پر کمیٹی کے سپرد کئے گئے مسودہ قانون یا معاملے پر غور کر سکے گی۔

155۔ کمیٹیوں کو کسی معاملے کی سپردگی۔  اسمبلی، کسی رکن کی جانب سے کوئی تحریک پیش کئے جانے پر، کوئی بھی معاملہ یا مسئلہ متعلقہ کمیٹی کے سپرد کر سکتی ہے اور کمیٹی اس معاملہ پر غور کرے گی۔

156۔ کمیٹیوں کے اجلاس۔ (1) ذیلی قاعدہ(2)کے تابع ، کمیٹی کا اجلاس ایسے دن اور ایسے وقت پر منعقد ہو گا جس کا تعین کمیٹی کا چیئرمین، سیکرٹری کے مشورے سے کرے گا۔

(2)  اگر کمیٹی کا چیئرمین فوری طور پر نہ مل سکے تو سیکرٹری اجلاس کی تاریخ اور وقت مقرر کر سکتا ہے:

                مگر شرط یہ ہے کہ مجلس کے چیئرمین کے انتخاب کے لئے اجلاس کا تعین سیکرٹری، سپیکر کی مشاورت سے کرے گا۔

(3) ذیلی قاعدہ (4)اور (5)کے تابع کمیٹی کے اجلاس، جہاں تک ممکن ہو، متواتر ایام میں منعقد ہوتے رہیں گے، حتیٰ کہ مفوضہ کام تکمیل کو پہنچ جائے۔

(4) ماسوائے سپیکر کی ماقبل تحریری منظوری کے، کمیٹی کے اجلاس مہینے میں دو سے زیادہ مرتبہ منعقد نہیں ہوا کریں گے۔

 

(5) تا آنکہ سپیکر بہ نہج دیگر اجازت دے، ہاؤس کمیٹی اور لائبریری کمیٹی کے اجلاس اسمبلی کے اجلاس کے دنوں ہی میں منعقد ہوا کریں گے۔

(6) کمیٹیوں کے اجلاس لاہور میں منعقد ہوا کریں گے۔

(7) اگر کوئی مسودہ قانون یا کمیٹی کے سپرد کیا گیا کوئی معاملہ کمیٹی کے زیر غور ہو تو کمیٹی کے تین اراکین کی جانب سے اجلاس بلانے کا مطالبہ کئے جانے پر چیئرمین ایسے مطالبے کی موصولی کی تاریخ سے 21 دن کے اندر اندر اجلاس طلب کرے گا۔[][5]

157۔ اسمبلی کے اجلاس کے دوران کمیٹیوں کے اجلاس۔ (1) کسی کمیٹی کا اجلاس سپیکر کی منظوری کے ماسوا ایسے وقت منعقد نہیں ہو سکتا جب اسمبلی کا اجلاس جاری ہو۔

(2)  اگر کسی کمیٹی کا اجلاس اس وقت منعقد ہو رہا ہو، جب کہ اسمبلی کا اجلاس بھی جاری ہو، تو اگر اس وقت اسمبلی میں رائے شماری کا موقع آ جائے تو کمیٹی کا چیئرمین اتنے وقت کے لئے کمیٹی کی کارروائی معطل کر دے گا، جس کے دوران اس کے خیال میں رائے شماری میں اراکین ووٹ دے سکیں گے۔

158۔ کمیٹی کے اجلاس خفیہ ہوں گے۔  تا وقتیکہ کمیٹی کثرت رائے سے، بہ نہج دیگر فیصلہ کرے، کمیٹی کے اجلاس خفیہ ہوں گے۔

159۔ کورم۔ (1)  کمیٹی کے چیئرمین کے انتخاب کے لئے کورم اس کے منتخب اراکین کی اکثریت پر مشتمل ہو گا۔

(2) ذیلی قاعدہ(1)کے تابع کمیٹی کے اجلاس کا کورم تین منتخب اراکین پر مشتمل ہو گا:

][6]مگر شرط یہ ہے کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی یا استحقاقات کمیٹی کے اجلاس کاکورم چار منتخب اراکین پر مشتمل ہو گا۔[

 
 160۔ رائے شماری۔ (1) قاعدہ 159 کے تابع کمیٹی کے اجلاس میں تمام معاملات کا فیصلہ ان منتخب اراکین کی کثرت آراء سے کیا جائے گا جو حاضر ہوں اور ووٹ دیں۔

(2) چیئرمین یا اس کی عدم موجودگی میں صدارت کرنے والا رکن ماسوائے اس صورت میں کہ ووٹ برابر ہو جائیں اپنا ووٹ استعمال نہیں کرے گا۔

 161۔ سرکاری ملازمین کے بیانات لینے اور سرکاری ریکارڈ کامعائنہ کرنے کے لئے کمیٹیوں کے اختیارات۔ (1)  کسی بھی کمیٹی کو یہ اختیار حاصل ہو گا کہ وہ سرکاری اور حکومت کے ماتحت خود مختار یا نیم خود مختار آئینی اداروں کے کسی بھی شخص اور ریکارڈ کو طلب کرے، مذکورہ شخص پر جرح کرے اور ریکارڈ کا معائنہ کرے:

  مگر شرط یہ ہے کہ کمیٹی کو یہ اختیار حاصل نہیں ہو گا کہ وہ ایسی دستاویزات یا ریکارڈ کو منگوائے جو کسی مجوزہ ٹیکس سے متعلق ہو۔

(2) اگر کسی محکمے کی یہ رائے ہو، کہ ملک کی سلامتی یا امن عامہ کی برقراری یا عمومی مفاد عامہ یا کسی دیگر معقول وجہ کی بناء پر کوئی خاص ریکارڈ جو حکومت کے تحت یا حکومت کی جانب سے قائم کردہ یا تشکیل کردہ کسی دفتر یا اتھارٹی سے طلب کیا گیا ہو، وہ کسی کمیٹی کو پیش نہ کیا جائے یا یہ کہ کسی سرکاری ملازم کو نہ بلایا جائے یا شہادت دینے پر مجبور نہ کیا جائے، تو وہ محکمہ اس ریکارڈ کے استحقاق یا اس سرکاری ملازم کے استثناء جیسی بھی صورت ہو، مطالبہ کر سکتا ہے:

مگر شرط یہ ہے کہ ایسی صورت میں وہ کمیٹی، سپیکر کے توسط سے اس امر کے بارے میں گورنر کے احکام حاصل کر سکتی ہے کہ آیا استحقاق یا استثناء ، جیسی بھی صورت ہو، کا مطالبہ جائز ہے اور اس امر کے بارے میں گورنر کے احکام قطعی ہوں گے۔

162۔ شہادت، رپورٹ، اور کارروائیوں کو خفیہ رکھنا۔ (1)  کوئی کمیٹی یہ ہدایت کر سکتی ہے کہ مکمل شہادت یا اس کا کوئی حصہ یا خلاصہ ایوان کی میز پر رکھا جائے۔ اگر کمیٹی ایسا فیصلہ کرے، تو سپیکر یہ ہدایت جاری کر سکتا ہے کہ ایسی شہادت کو باقاعدہ ایوان کی میز پر رکھے جانے سے قبل اراکین کو خفیہ طور پر مہیا کیا جائے۔

 

(2)  زبانی یا تحریری شہادت کا کوئی حصہ، کمیٹی کی رپورٹ، یا کارروائی جو ایوان کی میز پر نہ رکھی گئی ہو، سپیکر کی منظوری کے بغیر کسی بھی شخص کو معائنے کے لئے مہیا نہیں کی جائے گی۔

 

(3) کمیٹی کا کوئی رکن یا کوئی دوسرا شخص کسی کمیٹی کے سامنے دی گئی کسی شہادت کو ایوان کی میز پر رکھے جانے سے قبل شائع نہیں کرا سکتا۔

163۔ غیر سرکاری اراکین کےمسودات قانون پر محکموں کی آراء۔  اگر کسی غیر سرکاری رکن کا مسودہ قانون کسی کمیٹی کے سپرد کیا جائے تو سیکرٹری، اس مسودہ قانون کی ایک نقل متعلقہ محکمہ کو بھیجے گا اور اس سے درخواست کرے گا کہ اس پر محکمہ اپنی رائے کا اظہار کرے۔

164۔ کمیٹیوں کی کارروائیوں کا ریکارڈ۔ (1)  ہرکمیٹی کی کارروائیوں کے ریکارڈ کا خلاصہ رکھا جائے گا۔

(2) کسی کمیٹی کے رو برو دی گئی شہادت کا خلاصہ متعلقہ کمیٹی کے کسی رکن کی درخواست پر اسے مہیا کیا جائے گا۔

165۔ خصوصی رپورٹیں۔  اگر کوئی کمیٹی مناسب خیال کرے تو وہ کسی ایسے مسئلے کے بارے میں خصوصی رپورٹ مرتب کرنے کی مجاز ہو گی، جو اس کی کارروائی کے دوران رونما ہو یا پیش آئے اور جسے سپیکر یا اسمبلی کے علم میں لانا ضروری سمجھا جائے۔

166۔ کمیٹیوں کی رپورٹیں۔ (1)  کمیٹی کی رپورٹ قاعدہ 94 کے تحت سپیکر کی جانب سے مقرر کردہ مدت کے اندر یا جس تاریخ کو اسمبلی کی جانب سے یہ معاملہ کمیٹی کے حوالے کیا گیا تھا اس تاریخ سے تیس دن کے اندر پیش کی جائے گی تاوقتیکہ کسی تحریک کے پیش ہونے پر، اسمبلی، رپورٹ پیش کرنے کی مدت میں تحریک میں مصرحہ تاریخ تک توسیع کر دے۔

(2) رپورٹ میں-

(اے)  متعلقہ وزیر یا پارلیمانی سیکرٹری کی جانب سے دی جانے والی رائے، اگر کوئی ہو، شامل کی جائے گی؛

(بی)  کمیٹی کی سفارشات مع اقلیتی اراکین کی آراء، اگر کوئی ہوں، دی جائیں گی؛ اور

(سی)  چیئرمین یا، اگر وہ غیر حاضر ہو یا فوری طور پر نہ مل سکے تو، کمیٹی کا کوئی دیگر رکن رپورٹ پر کمیٹی کی جانب سے دستخط کرے گا۔

 [7]](3) اگر اسمبلی کا اجلاس نہ ہورہا ہو اور ذیلی  قاعدہ (1)کے تحت  رپورٹ  پیش کرنے کا وقت ختم  ہوچکا ہو یا ختم ہونے والا ہو اور کمیٹی   نے ابھی اپنا  کام نمٹانا ہو  تو سپیکر  ذیلی قاعدہ (1)میں مختص دورانیہ  ختم ہونےکےبعد  کمیٹی  کوزیادہ سے زیادہ  ایک  مزیداجلاس  کرنے کی خصوصی  اجازت  دے سکتا ہے ۔[

167۔ رپورٹ پیش کرنا۔ (1)  کمیٹی کی رپورٹ، چیئرمین یا کمیٹی کا کوئی دیگر رکن یا رکن متعلقہ اسمبلی میں پیش کرے گا۔

(2) سیکرٹری، کمیٹی کی ہر رپورٹ مع اقلیتی اراکین کی آراء، اگر کوئی ہوں، چھپوائے گا اور اس کی ایک نقل اسمبلی کے ہر ایک رکن کے استفادے کے لئے مہیا کی جائے گی۔

168۔ اجلاسوں کا ایجنڈا اور نوٹس۔ (1)  کمیٹی میں انجام دی جانے والی کارروائی کی ترتیب نیز کمیٹی کے ہر اجلاس کا ایجنڈا سیکرٹری، اس کمیٹی کے چیئرمین، اگر وہ فوری طور پر مل سکے، کے مشورے سے متعین کرے گا۔

(2) کمیٹی کے تمام اجلاسوں کے نوٹس کمیٹی کے اراکین نیز ایڈووکیٹ جنرل، اگر وہ بھی کمیٹی کے رکن کے طور پر نامزد ہو، یا اگر کمیٹی نے اس کی حاضری کا مطالبہ کیا ہو، کو بھیجے جائیں گے۔

169۔ طریق کار کے بارے میں سپیکر کا فیصلہ۔  اگر طریق کار سے متعلق کسی امر کے بارے میں یا قواعد کی توضیح سے متعلق کوئی اشتباہ پیدا ہو جائے تو چیئرمین، اگر وہ مناسب سمجھے، تو یہ معاملہ سپیکر کو بھیج دے گا جس کا فیصلہ حتمی ہو گا۔

170۔ کمیٹیوں کے زیر غور کارروائی اسمبلی کا اجلاس ملتوی ہونے کی وجہ سے ساقط نہیں ہو گی۔  کمیٹی کے زیر غور کام محض اسمبلی کا اجلاس ملتوی ہونے کی وجہ سے ساقط نہیں ہو جائے گا بلکہ اسمبلی کا اجلاس ملتوی ہونے کے باوجود کمیٹی اپنا کام جاری رکھے گی۔

171۔ کمیٹیوں کا نامکمل کام۔ (1)  جو کمیٹی اپنی معینہ میعاد ختم ہونے سے پہلے یا اسمبلی کی میعاد کے اختتام سے قبل اپنا کام مکمل نہ کر سکے، وہ اسمبلی کو یہ اطلاع دے گی کہ کمیٹی اپنا کام مکمل نہیں کر سکی۔ کوئی رپورٹ، یادداشت یا نوٹ جو کمیٹی نے تیار کیا ہو، یا کوئی شہادت جو کمیٹی نے لی ہو، سیکرٹری کو بھیج دی جائے گی، جو یہ دستاویزات نئی کمیٹی کو مہیا کرے گا۔

 (2) بلا لحاظ اس امر کے کہ قواعد ہذا میں بہ نہج دیگر مذکور ہو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اسی مرحلے سے کام شروع کرے گی جس مرحلے پر اسمبلی ٹوٹنے سے قبل سابق کمیٹی نے کام چھوڑا تھا۔

 (3) پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی رپورٹ یا رپورٹ کے کسی حصے کو قاعدہ167کےمطابق نئی اسمبلی کے سامنے پیش کیا جا سکے گا، خواہ رپورٹ پیش کرنے کی مہلت ختم ہو چکی ہو۔

 

 (بی) سیلیکٹ کمیٹی

172۔ تشکیل و فرائض۔ (1)  سیلیکٹ کمیٹی میں مسودہ قانون سے متعلق محکمے کا متعلقہ وزیر، مسودہ قانون سے متعلقہ کمیٹی کا چیئرمین، رکن متعلقہ اور وزیر قانون و پارلیمانی امور شامل ہوں گے اور ایسی کسی کمیٹی کے انتخاب کے لئے جو تحریک پیش کی جائے اس میں ان کے ناموں کا شامل کرنا ضروری نہ ہو گا۔

 

(2) جب مسودہ قانون کو سیلیکٹ کمیٹی کے سپرد کئے جانے کی تحریک منظور ہو جائے، تو اسمبلی اپنے اراکین میں سے کمیٹی کے لئے دیگر اراکین نامزد کرے گی۔

(3) مسودہ قانون سے متعلقہ کمیٹی کا چیئرمین سیلیکٹ کمیٹی کا چیئرمین ہو گا۔

(4) اگر چیئرمین، سیلیکٹ کمیٹی کے کسی اجلاس میں حاضر نہ ہو تو کمیٹی کے اراکین اس اجلاس کے لئے چیئرمین منتخب کریں گے۔

(5) چیئرمین یا اس کی غیر موجودگی میں صدارت کرنے والا رکن ووٹوں کے برابر ہونے کی صورت کے علاوہ کسی صورت میں ووٹ نہیں دے گا۔

(6) سیلیکٹ کمیٹی مجاز ہو گی کہ وہ ماہرین کی شہادت لینے اور مسودہ قانون سے متاثر ہونے والے خصوصی مفادات کے حامل طبقوں کے نمائندوں کے بیانات سنے۔

 

173۔ کورم۔ (1)  سیلیکٹ کمیٹی کے اجلاس کے لئے کورم، کمیٹی کے اراکین کی کل تعداد کا ایک تہائی ہو گا۔

(2) اگر سیلیکٹ کمیٹی کے اجلاس کے لئے مقرر کردہ وقت پر یا ایسے کسی اجلاس کے دوران کورم پورا نہ ہو تو چیئرمین یا تو اجلاس اس وقت تک کے لئے ملتوی کر دے گا جب تک کہ کورم پورا نہیں ہوجاتا یا اجلاس آئندہ کسی دن تک کے لئے ملتوی کر دے گا۔

(3) اگر کورم نہ ہونے کی وجہ سے سیلیکٹ کمیٹی کے اجلاس یکے بعددیگرے دو تواریخ تک ملتوی ہوتے رہے، تو آئندہ اجلاس کمیٹی کا کورم پورا نہ ہونے کی صورت میں بھی منعقد ہو سکتا ہے۔

 

174۔ سیلیکٹ کمیٹی کی جانب سے تجویز کردہ ترامیم۔  سیلیکٹ کمیٹی کو مسودہ قانون میں ایسی ترامیم تجویز کرنے کا اختیار حاصل ہو گا جو مسودہ قانون کےدائرہ کار سے باہر نہ ہوں۔

175۔ رپورٹ۔ (1) سیلیکٹ کمیٹی، مسودہ قانون سے متعلق رپورٹ اسمبلی کی جانب سے متعین کردہ مدت کے اندر تیار کرے گی۔

(2) کسی مسودہ قانون پر سیلیکٹ کمیٹی کی رپورٹ، اسمبلی میں چیئرمین، یا اس کی غیر حاضری میں کمیٹی کا کوئی دیگر رکن یا رکن متعلقہ پیش کرے گا اور اس مرحلے میں اس پر کوئی بحث نہیں ہو گی۔

(3) سیکرٹری، سیلیکٹ کمیٹی کی رپورٹ مع اختلافی نوٹ، اگر کوئی ہو،چھپوائے گا اور اراکین کو اس کی ایک ایک نقل مہیا کرے گا۔

 

(سی) پبلک اکاؤنٹس کمیٹیاں

176۔تشکیل:۔ (1)  عام انتخابات کے بعد، اسمبلی کی میعاد تک کے لئے دو پبلک اکاؤنٹس کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی۔

(2) ہر کمیٹی][8]تیرہ[اراکین پر مشتمل ہو گی جن کا انتخاب اسمبلی کرے گی اور وزیر خزانہ اس کا رکن بلحاظ عہدہ ہو گا۔

177۔ فرائض۔ (1)  کمیٹیاں حکومت کے مد بندی حسابات اور اس کے بارے میں آڈیٹر جنرل کی رپورٹ، اور ایسے دیگر معاملات کو جو اسمبلی یا سپیکر یا وزیر خزانہ ان کمیٹیوں کے سپرد کرے، نمٹائیں گی۔

(2) ذیلی قاعدہ (1)کے تابع کمیٹیاں ایسے امور کو نمٹائیں گی، جو مذکورہ ذیلی قاعدہ کے تحت کمیٹیوں کو سپرد کردہ کام میں سے سپیکر ان کو تفویض کرے۔

(3) حکومت کے مد بندی حسابات اور ان کے متعلق آڈیٹر جنرل کی رپورٹ کی پڑتال کرتے وقت کمیٹیوں کا فرض ہوگا کہ وہ اس بارے میں اطمینان کریں کہ۔

 

(اے)  جن رقوم کے متعلق حسابات میں یہ دکھایا گیا ہے کہ انہیں خرچ کیا گیا ہے وہ قانوناً اس کام یا غرض کے لئے قابل استفادہ اور قابل استعمال تھیں جس کے لئے انہیں استعمال یا ادا کیا گیا ہے؛

(بی)  خرچ اس اختیار کے مطابق ہے جس کے مطابق اسے عمل میں آنا چاہیے تھا؛ اور

(سی)  ہر تبدیلی مد ایسے قواعد کے مطابق کی گئی ہے جو حکومت نے مقرر کئے ہوں۔

 (4) کمیٹیوں کا یہ فرض بھی ہو گا کہ۔

 (اے)  وہ سرکاری کارپوریشنوں، تجارتی اور صنعتی سکیموں، اداروں اور منصوبوں کے آمدنی اور خرچ ظاہر کرنے والے حسابات کے گوشواروں مع بیلنں شیٹوں اور نفع و نقصان کے حسابات کے گوشواروں کے جن کی تیاری کا حکم گورنر نے دیا ہو، یا جو کسی خاص کارپوریشن، کسی تجارتی ادارے یا منصوبے کے مالیاتی امور کو منضبط کرنے والے آئینی قواعد کے احکامات کے تحت تیار کئے گئے ہوں اور ان پر آڈیٹر جنرل کی رپورٹ کی پڑتال کرے؛

 (بی)  خود مختار اور نیم خود مختار اداروں کی آمدنی اور خرچ ظاہر کرنے والے حسابات کے گوشواروں کی پڑتال کرے جن کا آڈٹ، آڈیٹر جنرل نے گورنر کی ہدایت کے تحت یا کسی قانون کے تحت کیا ہو؛ اور

 (سی)  جب کبھی گورنر نے آڈیٹر جنرل کو کسی محاصل کی پڑتال کرنے یا سٹورز اور سٹاکس کے حسابات کا جائزہ لینے کے لئے کہا ہو تو اس کی رپورٹ پر غور کرے۔

 (5) اگر کسی مالی سال کے دوران اسمبلی کی منظور کردہ رقم، جو کسی مقصد کے لئے رکھی گئی تھی، سے زائد رقم کسی خدمت پر خرچ کر دی جائے تو کمیٹی ہذا ہر معاملے کے حقائق کے حوالے سے ان حالات کا جائزہ لے گی جس وجہ سے ایسے زائد اخراجات کرنے پڑے اور ایسی سفارشات مرتب کرے گی جنہیں وہ مناسب خیال کرے۔

178۔ رپورٹیں۔ (1)  ہر کمیٹی کے لئے یہ لازم ہو گا کہ اس تاریخ سے ایک سال کے عرصے کے اندر اندر اس معاملے کے بارے میں اپنی رپورٹ پیش کرے جس تاریخ سے اسمبلی نے وہ معاملہ اس کے سپرد کیا ہو، تا وقتیکہ اسمبلی کوئی تحریک پیش کئے جانے پر اس امر کی ہدایت نہ کرے کہ رپورٹیں پیش کرنے کی میعاد میں تحریک میں صراحت کردہ تاریخ تک توسیع کر دی جائے۔

(2) کمیٹی کوئی عبوری رپورٹ پیش کر سکتی ہے یا رپورٹوں کو بالاجزا پیش کر سکتی ہے۔

 

179۔ اجلاس۔ (1)  کمیٹیوں کے اجلاس بالعموم لاہور میں منعقد ہوں گے۔

(2) اگر ضروری ہو تو سپیکر اور وزیر خزانہ کی پیشگی منظوری سے کمیٹیوں کے اجلاس لاہور سے باہر بھی منعقد کئے جا سکتے ہیں۔

(3) تا آنکہ سپیکر بہ نہج دیگر اجازت دے پبلک اکاؤنٹس کمیٹیوں میں سے ایک کمیٹی کا اجلاس زیر غور کارروائی کو نمٹانے کے لئے مہینے کے پہلے پندرہواڑے میں اور دوسری کا مہینے کے دوسرے پندرہواڑے میں منعقد ہو گا:

 مگر شرط یہ ہے کہ سپیکر کی منظوری کے بغیر کمیٹیوں کا اجلاس کسی ہفتے میں تین دن سے زیادہ منعقد نہیں ہو گا۔

 

(ڈی) استحقاقات کمیٹی

 180۔ تشکیل۔ (1)  اسمبلی کی میعاد تک کے لئے ایک کمیٹی برائے استحقاقات تشکیل دی جائے گی۔

 (2) یہ کمیٹی[9]]تیرہ[اراکین پر مشتمل ہو گی جنہیں اسمبلی منتخب کرے گی اور وزیر قانون و پارلیمانی امور اس کا رکن بلحاظ عہدہ ہو گا۔

181۔ فرائض۔  کمیٹی اپنے سپرد کئے گئے ہر مسئلے کا جائزہ لے گی اور ہر معاملے کے حقائق کے حوالے سے اس امر کا تعین کہ آیا اس معاملے میں استحقاق مجروح ہوا ہے، اور اگر ایسا ہی ہو، تو استحقاق مجروح ہونے کی نوعیت اور اس کا باعث بننے والے حالات کا تعین کرے گی اور ایسی سفارشات مرتب کرے گی جنہیں وہ مناسب خیال کرے۔

 

(ای) کمیٹی برائے گورنمنٹ  اشوریسنز

 182۔ تشکیل و فرائض۔ (1)  ایک کمیٹی برائے گورنمنٹ ایشورنسز تشکیل دی جائے گی جو اسمبلی کے ایوان میں کسی وزیر یاپارلیمانی سیکرٹری کی جانب سے کی گئی یقین دہانیوں، وعدوں اور لی گئی ذمہ داریوں کی جانچ پڑتال کرے گی اور اس سے متعلق ایسے تمام معاملات جو ذیلی قاعدہ (3) کے تحت اس کے سپرد کئے گئے ہوں، ان پر رپورٹ پیش کرے گی۔

(2) کمیٹی دس اراکین پر مشتمل ہو گی جنہیں اسمبلی اپنی میعاد تک کے لئے منتخب کرے گی۔

(3) اگر کوئی رکن یہ محسوس کرے کہ کسی وزیر یا پارلیمانی سیکرٹری نے جو اسے یقین دہانی ایوان اسمبلی میں کرائی تھی، وعدہ کیا تھا یا ذمہ داری لی تھی، اس پر ایک معقول مدت کے اندر عملدرآمد نہیں کیا گیا تو وہ تحریری طور پر یہ تجویز پیش کر سکتا ہے کہ یہ معاملہ کمیٹی کے سپرد کر دیا جائے، اگر سپیکر کو اس امر کا اطمینان ہو جائے کہ معقول مدت گزر چکی ہے اور یہ کہ کمیٹی کو اس معاملے کی چھان بین کرنی چاہیے تو وہ اس معاملے کو کمیٹی کے سپرد کر دے گا۔

(4) کمیٹی صرف اسمبلی کی مدت کے دوران کئے گئے وعدوں، یقین دہانیوں اور قبول کی گئی ذمہ داریوں کی چھان بین کرے گی۔

(5) کمیٹی اتنی مدت میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی جو سپیکر مقرر کرے یا جتنی وہ توسیع کرے۔

 

(ایف) لائبریری کمیٹی

183۔ تشکیل و فرائض۔ (1)  ایک لائبریری کمیٹی ہو گی جو ڈپٹی سپیکر اور نو ایسے دیگر اراکین پر مشتمل ہو گی جن کا تقرر سپیکر، اسمبلی کی میعاد تک کے لئے کرے گا۔

(2) ڈپٹی سپیکر اس کمیٹی کا چیئرمین بلحاظ عہدہ ہو گا۔

(3) کمیٹی میں اتفاقی طور پر خالی ہونے والی بلحاظ عہدہ سیٹیں، سپیکر نامزدگی کے ذریعے پُر کرے گا۔

(4) کمیٹی اسمبلی کی لائبریری سے متعلقہ امور، جو سپیکر وقتاً فوقتاً اس کے سپرد کرے، پر غور و خوض کرے گی اور ان کے متعلق مشورہ دے گی۔

 

(جی) ہاؤس کمیٹی

184۔ تشکیل و فرائض۔ (1)  ایک ہاؤس کمیٹی ہو گی جس کے اراکین کی تعداد چیئرمین سمیت دس سے زائد نہ ہو گی۔

(2) کمیٹی، بشمول اس کے چیئرمین، کو سپیکر نامزد کرے گا اور یہ ایسے عرصے کے لئے ہو گی جو ایک سال سے متجاوز نہ ہو گا۔

(3) سپیکر اس کمیٹی کے کسی رکن کو نئی ہاؤس کمیٹی کے لئے دوبارہ نامزد کر سکتا ہے۔

(4)  ہاؤس کمیٹی اراکین کے لئے رہائشی جگہ کے متعلق ایسے امور نمٹائے گی جو سپیکر کی جانب سے وقتاً فوقتاً اس کے سپرد کئے جائیں۔

 

(ایچ) فنانس کمیٹی

185۔ تشکیل و فرائض۔ (1)  اسمبلی کی میعاد تک کے لئے ایک فنانس کمیٹی ہو گی جو سپیکر، وزیر خزانہ اور سات دیگر اراکین پر مشتمل ہوگی جن کا انتخاب ، اسمبلی قاعدہ 150 میں مصرحہ طریق کار کے مطابق کرے گی۔

(2) سپیکر، کمیٹی کا چیئرمین اور سیکرٹری اس کا سیکرٹری ہو گا۔

(3) کمیٹی، اسمبلی اور اس کے سیکرٹریٹ کے سالانہ اور ضمنی بجٹ کے تخمینہ جات کی منظوری دے گی جنہیں حکومت بالترتیب سالانہ بجٹ اور ضمنی بجٹ کے گوشواروں میں شامل کرے گی:

مگر شرط یہ ہے کہ اگر کسی مخصوص وقت پر، اسمبلی تحلیل شدہ ہو یا فنانس کمیٹی موجود نہ ہو تو سپیکر فنانس کمیٹی کی منظوری کی توقع پر، ایسی منظوری دے سکتا ہے۔

(4) کمیٹی مجاز ہو گی کہ وہ وقتاً فوقتاً رقوم کی فراہمی کی توقع میں اسمبلی یا اس کے سیکرٹریٹ کے لئے اضافی یا نئے اخراجات کی منظوری دے اور اس طرح سے منظور شدہ رقم یا رقوم ضمنی بجٹ میں شامل کی جائیں گی۔

(5) کمیٹی مجاز ہو گی کہ وہ اسمبلی یا اس کے سیکرٹریٹ سے متعلق کسی ایسے مالی معاملے کے سلسلے میں، جسے اسمبلی یا سپیکر نے اس کے سپرد کیا ہو،سفارشات پیش کرے۔

(6)  قواعد ہذا میں موجود کسی امر کے باوجود کمیٹی کا طریقہ کار کمیٹی کے وضع کردہ قواعد کے مطابق منضبط کیا جائے گا اور جب تک ایسے قواعد وضع کئے جائیں، کمیٹی کی کارروائی اس طریق پر سر انجام دی جائے گی جیسا کہ سپیکر ہدایت کرے۔

 

(آئی) بزنس ایڈوائزری کمیٹی

186۔ تشکیل و فرائض۔ (1)  اسمبلی کے تشکیل میں آتے ہی یا وقتاً فوقتاً، جیسی بھی صورت ہو، سپیکر، قائد ایوان،اپوزیشن لیڈرکی مشاورت سے بزنس ایڈوائزری کمیٹی نامزد کر سکتا ہے جو زیادہ سے زیادہ بارہ اراکین، بشمول سپیکر جو کمیٹی کا چیئرمین ہو گا، پر مشتمل ہو گی۔

(2) کمیٹی کا فرض ہو گا کہ وہ ایسےسرکاری مسودات قانون یا دیگر کارروائی کے کسی مرحلے یا مراحل پر مباحثے کے لئے وقت مختص کرے جنہیں سپیکر، قائد ایوان کی مشاورت سے کمیٹی کے سپرد کئے جانے کی ہدایت کرے۔

(3) کمیٹی مجوزہ اوقات کار میں ایسے مختلف اوقات کا تعین کرنے کی مجاز ہو گی جن میں مسودہ قانون یا دیگر کارروائی کے مختلف مراحل مکمل کئے جائیں گے۔

(4) کمیٹی کے ایسے دیگر فرائض بھی ہوں گے جو سپیکر کی جانب سے اسے وقتاً فوقتاً تفویض کئے جائیں۔

 

(جے) سپیشل کمیٹی

 187۔ تشکیل و فرائض۔ (1)  اسمبلی کسی تحریک پر سپیشل کمیٹی مقرر کر سکتی ہے جس کی تشکیل ایسے طریق پر ہو گی اور جس کے فرائض ایسے ہوں گے جیسا کہ اس تحریک میں صراحت کی جائے۔

 (2)  کمیٹی، سپیکر یا وزیر کے علاوہ اگر، ان میں سے کسی کا نام بطور رکن تحریک میں دیا گیا ہو، زیادہ سے زیادہ بارہ اراکین پر مشتمل ہو گی۔

 

(کے) عام اصول

188۔ ضمنی قواعد۔ (1)  سٹینڈنگ کمیٹیوں سے متعلقہ قواعد، کسی دیگر کمیٹی پر اطلاق پذیر ہوں گے اگر وہ ان قواعد کے برعکس نہ ہوں جو خصوصی طور پر اس کمیٹی پر اطلاق پذیر ہوتے ہیں:

مگر شرط یہ ہے کہ قاعدہ 149 کے ذیلی قاعدہ(2)کے احکامات کا اطلاق لائبریری کمیٹی ، ہاؤس کمیٹی اور فنانس کمیٹی پر نہیں ہو گا۔

(2) اگر باب ہذا میں مندرج قواعد میں کسی مسئلے کے بارے میں کوئی اہتمام موجود نہ ہو تو کوئی کمیٹی اپنی کارروائی کی مناسب سر انجام دہی کے سلسلے میں ہدایات حاصل کرنے کے لئے اس مسئلے کے متعلق سپیکر سے رجوع کر سکتی ہے اور سپیکر کی جانب سے دی جانے والی ہدایات پر عمل کیا جائے گا۔



[1] ذیلی قاعدہ (1)تبدیل کیا گیا؛یہ ترمیم اسمبلی نے17فروری 2016کو منظورکی؛نوٹیفیکشن نمبرPAP/Legis-1(15)/2013/1380، مورخہ 22فروری2016ملاحظہ فرمائیں؛ پنجاب گزٹ(غیر معمولی)کے صفحات3937-44پراسی دن  شائع ہوئی۔

[2] نیا ذیلی قاعدہ ایزادکیا گیا؛یہ ترمیم اسمبلی نے17فروری 2016کو منظورکی؛نوٹیفیکشن نمبرPAP/Legis-1(15)/2013/1380 ،مورخہ 22فروری2016ملاحظہ فرمائیں؛ پنجاب گزٹ(غیر معمولی)کے صفحات3937-44پراسی دن شائع ہوئی۔

[3] نئے  ذیلی قواعد ایزاد کئے گئے؛یہ ترمیم اسمبلی نے17فروری 2016کو منظورکی؛نوٹیفیکشن نمبرPAP/Legis-1(15)/2013/1380، مورخہ 22فروری2016ملاحظہ فرمائیں؛ پنجاب گزٹ(غیر معمولی)کے صفحات3937-44پراسی دن  شائع ہوئی۔

[4] نیا ذیلی قاعدہ ایضًاایزادکیا گیا۔

[5] قائمقام سپیکر نے قواعد انضباط کار صوبائی اسمبلی پنجاب کے قاعدہ 235،جسےان قواعد کے قاعدہ156اور188کے ساتھ پڑھاجائے،کے تحت  اپنے مفوضہ اختیارات اوراس ضمن میں دیئے گئے جملہ دیگر اختیارات کو استعمال کرتے ہوئےدرج ذیل حکم جاری کیا:

اگر چئیرمین قواعد انضباط کار صوبائی اسمبلی پنجاب1997کےقاعدہ156کےذیلی قاعدہ (7)میں مقررکردہ وقت کے اندر کمیٹی کا اجلاس نہ بلائے توسیکرٹری اجلاس  کی تاریخ اور وقت مقررکرسکتا ہے۔

درج بالا حکم اس وقت تک نافذالعمل رہے گا جب تک قواعد انضباط کار صوبائی اسمبلی پنجاب1997میں اس ضمن میں کوئی شق وضع نہ کر لی جائے ۔نوٹیفیکشن نمبر PAP/Legis-1(15)/2013/1206مورخہ 20مارچ2015ملاحظہ فرمائیں۔

[6]  ایزاد شدہ بذریعہ نوٹیفیکشن  نمبر Pap/Legis-1(94)/96/532،مورخہ23اکتوبر 2003۔پنجاب گزٹ(غیر معمولی)مورخہ23اکتوبر 2003کا صفحہ2331ملاحظہ فرمائیں۔

[7] نیا ذیلی قاعدہ ایزادکیا گیا؛یہ ترمیم اسمبلی نے17فروری 2016کو منظورکی؛نوٹیفیکشن نمبرPAP/Legis-1(15)/2013/1380،مورخہ 22فروری2016ملاحظہ فرمائیں؛ پنجاب گزٹ(غیر معمولی)کے صفحات3937-44پراسی دن  شائع ہوئی۔

 

[8]  لفظ ’’دس‘‘تبدیل شدہ بذریعہ نوٹیفیکشن  نمبرPap/Legis-1(94)/96/487،مورخہ31 جولائی 2003۔ پنجاب گزٹ(غیر معمولی)مورخہ2۔اگست 2003کے صفحات1493 تا 94ملاحظہ فرمائیں۔

[9]  لفظ ’’دس‘‘تبدیل شدہ بذریعہ نوٹیفیکشن  نمبرPap/Legis-1(94)/96/487،مورخہ31 جولائی 2003۔ پنجاب گزٹ(غیر معمولی) مورخہ2۔اگست 2003کے صفحات1493 تا 94ملاحظہ فرمائیں۔

 

ایوان

سیکریٹیریٹ

اراکین

کمیٹیاں

ایوان کی کارروائی

مرکز اطلاعات

رپورٹیں اورمطبوعات